تحریری مقابلہ
انکا دعوٰی ہے میاں صاحبِ ایماں ہونا
کام سے جنکے عیاں ہوتا ہے شیطاں ہونا
بنکے نققلی خدا فرعون سا ناداں ہونا
اس سے بہتر ہے سنو بندۂ یزداں ہونا
ہو سبب جس بھی پریشانی کا احباب اپنے
ایسی مشکل کا ہے مشکل بہت آساں ہونا
میر بن، نا ہے اگر تو ہے ضروری صاحب
لذتِ ہجر تخیّل غمِ جاناں ہونا
اب ہوس عام ہے لوگوں کے نہیں بس میں اب
قیس ہوکر کے میاں نذرِ بیاباں ہونا
تم خدا بنتے ہو اس دور میں جسمیں لوگوں
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
تختِ شاہی نہ طلب تاج کی! میں تو چاہوں
مے سے لبریز ترے چشم کا مژگاں ہونا
جسکا لقمان، نہ کر پائے علاج اب عابد
چاہتا ہوں میں اسی درد کا درماں ہونا
سید تہزیب عابد
Seyad faizul murad
07-Apr-2022 03:29 PM
.بہت خوب
Reply
asma saba khwaj
07-Apr-2022 05:10 AM
بہت خوب محترم
Reply